پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

اُمِّ نُسیبہ (کراچی)

بچپن کی یادیں تو ہر ایک کے لیے انمول اور زندگی کا سنہرا باب ہوتی ہیں اور جب ذکر شرارتوں کا ہو تو یہ یادیں نہ صرف زندگی کی کتاب میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں بلکہ اداس لمحوں میں مُسکان بن کر چہرے پر جگمگانے بھی لگتی ہیں۔ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر ہم خود کو دیکھیں تو ایک نٹ کھٹ اور شوخ سی بچی دکھائی دیتی ہے جو ننھیال و ددھیال میں سب ہی کی لاڈلی ہے اور ننھیال میں تو پہلی اولاد کی پہلی اولاد ہونے کے باعث خوب نخرے اٹھائے جاتے،  مگر مسئلہ یہ تھا کہ نانی کے گھر کوئی ہمارا ہم عمر نہ تھا جو ہمارے ساتھ ہماری مرضی کے کھیل کھیلتا۔ خالائیں اور ماموں خوب بہلاتے اور کھیلتے مگر ہمارا دل تھا کہ اچاٹ ہی رہتا۔پھر ہماری دعائیں قبول ہوئیں اور نانی کے پڑوس میں رہنے والی تقریباً سات آٹھ سال کی بچی سے جو ہماری ہم عمر تھی، دوستی ہوگئی۔ اب جب بھی ہم نانی کے گھر جاتے اس بچی کو بلوایا جاتا تاکہ وہ ہمارے ساتھ کھیلے۔ ہمارا کھیل ٹیچر ٹیچر یا ایک دوسرے کے بال سنوارنااور چٹیا وغیرہ باندھنا ہوتا تھا۔ ایک بار کھیل کھیل میں ہمیں کیا سوجھی کہ ہم نے کہا :افشاں! آج میں تمہارے بہت اچھے اسٹائل والے بال بناؤں گی، دیکھنا کیسی پیاری لگو گی۔ہم نے افشاں کو سبز باغ دکھائے۔اس کے بعد ہمیں مل گئی کہیں سے قینچی۔۔۔ اور ہم نے بنادی بچاری افشاں کی درگت۔ مگر اس کی فرماں برداری کے قربان جائیے بلا چوں چراں ہمارے آگے قربانی کا بکرا بلکہ بکری بنی بیٹھی رہی،  یا شاید اس کا حُسن ظن تھا ہمارے بارے میں کہ ہم اسے مس یونیورس نہیں تو مس ورلڈتو بنا ہی دیں گے۔ مگر ہمارے ارمانوں پہ اوس تب پڑی جب کارگزاری کے بعد ہم نے افشاں کی ٹھوڑی اٹھا کر مکھڑے کی زیارت کی، افففف۔۔۔۔۔ اللہ کی پناہ ہم خود ڈر گئے۔ اس کے بال جو کچھ دیر پہلے کندھے تک آتے تھے اب سر پر اُگی بے ہنگم گھاس دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ مزید نوک پلک سنوارنے کی غرض سے اسے ایک بار پھر تختہ مشق بنایا۔ جہاں جہاں بہتری کی گنجائش تھی، اپنی طرف سے تو ہم نے بھرپور کوشش کی، مگر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات،  افشاں کے سر پر بننے والے اجڑے چمن کو ہم کیا سنوارتے جو کسی ایٹمی دھماکے کی جائے وقوع معلوم ہوتا تھا۔ جب کچھ نہیں بن پایا اور صورتحال نازک دکھائی دینے لگی تو ہم نے اس کے سر پر دوپٹہ لپیٹ دیا اور اُسے اس کے گھر چلتا کیا کہ کہیں ہمارے گھر میں کسی کو اس کارروائی کی خبر نہ ہو جائے۔ مگر وائے افسوس!!! افشاں الٹے پاؤں واپس آگئی۔ اس کی واپسی کا ہمیں اتنا صدمہ نہ ہوتا اگر اس کی امی اس کے ساتھ نہ ہوتیں۔ وہ منظر بھی آنکھوں کو نہیں بھولتا جب اس کی امی نے بھری محفل میں دوپٹے کا پلو افشاں کے سر سے کھینچ کر اتارا، کسی کی آہ نکلی تو کسی کی ہائے اور کمرے کی چوکھٹ سے جھانکتے سہمے سہمے سے مابدولت ۔۔۔ بعد میں ہماری امی کی پٹائی سے ہماری خالاؤں نے ہمیں کیسے بچایا اس کے بارے میں راوی فی الحال خاموش ہے۔ اگلے دن ہم کھڑکی سے جھانک رہے تھے تو سامنے ہی ایک چمکتی دمکتی ٹنڈ میں افشاں کا چہرہ دکھائی دیا۔ اففف!!! افشاں کی شعلہ برساتی آنکھیں۔۔۔ ان نظروں کی تاب لانے کی ہم میں سکت کہاں تھی ہم نے کھڑکی سے جھانکتی اپنی گردن کو اندر کرلینے میں ہی عافیت جانی۔یہ واقعہ افشاں سے ملاقات ہونے پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے تو سب کے قہقہے بلند ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ آفر آج بھی اسے پیش کرتے ہیں کہ کبھی بھی اچھا سا ہئیر اسٹائل بنوانا ہو تو ہم سے رجوع کرنا مت بھولنا۔

شیئر کریں
19