شکیل احمد (مظفرگڑھ)

 خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے لڑ کے مامون کو علم و آداب کی تعلیم کے لیے امام اصمعیؒ ٰ کے سپرد کر دیا تھا۔ ایک دن اتفاقا ہارون الرشید وہاں جا پہنچے۔ دیکھا کہ اصمعی اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ ہارون نے بڑے برہمی سے فرمایا کہ میں نے تو اس کو آپ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے۔ آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہ دیا کہ وہ ایک ہاتھ سے پانی گرا ئے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے۔ سکندر اعظم سے کسی نے پو چھا کہ آپ استاد کو باپ پر کیوں ترجیح دیتے ہیں، جواب دیا! اس لیے کہ باپ تو مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔ باپ سبب حیات فانی اور استاد موجب حیات جاودانی ہے۔ باپ میرے جسم کی پرواہ کرتا ہے اور استاد میری جان کی۔ حضرت امام شافی ؒ فرمایا کر تے تھے کہ میں استاد صاحب کے سامنے کتاب کا ورق بھی آہستہ الٹتا تھا کہ اسی کی آواز بھی استاد محترم کو سنائی نہ دے۔ حضرت علی کرم  اللہ وجہہ کا فر مان ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اس کا غلام ہوں، وہ چاہے مجھے بیچے، آزاد کرے یا غلام بنا ئے رکھے

اشفاق احمد اردو آداب کے بہت بڑے ادیب گز رے ہیں ۔وہ اپنا ایک واقعہ یوں سنا تے ہیں کہ  مجھ سے ایک مرتبہ روم میں دوران سفر ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی ہو گئی۔ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ہو گیا۔ عدالت میں پیشی ہوئی۔ جج صاحب نے  پو چھا کہ آپ نے قانون کی خلاف ورزی پر جرما نے کی ادائیگی کیوں نہ کی تو میں نے بتایا کہ میں پروفیسر ہوں اور مصروفیا ت کی وجہ سے جر مانہ ادا کرنا بھو ل گیا جس پر جج فو را ً اپنی کر سی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور میرے احترام میں عدالت میں مو جود دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے اور مجھے عزت اور احترام سے وہاں سے رخصت کیا۔

                جو قومیں اسا تذہ کا احترام کر تی ہیں تاریخ کے اوراق میں امر ہو جا تی ہیں۔ ابن انشا کچھ عرصہ جاپان کی ایک یونیورسٹی میں تدریسی فرائض سرانجام دہتے رہے۔ ایک دن وہ اپنے ساتھی استاد  کے ساتھ  چہل قد می کر رہے تھے اور چلتے چلتے ایک جگہ رک گئے ۔ ابن انشاء بہت حیران ہو ئے کہ طلباء جب ان کے قریب سے گزر تےہیں تو چھلانگ مارکر گزر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے سا تھی سے پو چھا کہ کیا ما جرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ زمین پر ہمارا سایہ پڑ رہا ہے اور طلباء ہما رے سا ئے پر اپنے پاؤں رکھنا  بے ادبی سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ شخص ہمیشہ بے فیض رہتا ہے جو اپنے استاد کی عظمت و بزرگی کا خیال نہیں رکھتا جس سے ایک نکتہ بھی سیکھو اس کی دل سے عزت کرو ۔

شیئر کریں
432
2