مسز نصرت پروین (بہاول نگر)
بہار کی دستک پر شاخیں خوش رنگ پھولوں سے ڈھک جاتی ہیں ۔ ایسے میں استاد اپنے پھولوں کی آبیاری میں مصروف ہوتا ہے۔ استاد ہی روشنی کا وہ مینار ہے جو لوگوں کو سلامتی کا راستہ دکھاتا ہے اور انہیں بحفاظت منزل پر پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ جب استاد نہیں تھا تو دنیا میں جہالت کی تاریکی تھی۔ استاد نے تاریکی میں علم کی شمع روشن کی تو اندھیرا اجالے میں بدل گیا۔ استاد انسان سا ز ہے کیونکہ استاد اپنے شاگردوں کے لیے روشنی کا پیامبر ہے۔ علم استاد اور شاگرد کے مقدس تعلق کا باعث ہے۔ استاد اور شاگرد کا تعلق روحانی ہے۔ یہ تعلق دل کے گرد گھومتا ہے جو شاگرد استاد کے حضور جھکتا ہے وہی علم کے نور کو حاصل کر نے کا حق دار قرار پاتا ہے۔ استاد انسان ساز ہے کیونکہ استاد ایک ہے شاگرد کئی۔ ماحول ایک، درس بھی ایک، کتاب بھی ایک۔ پڑھانے والا وہی ہے لیکن کوئی علم و فضلیت کی کہکشاں کا ستارہ بن جاتا ہے اور کبھی کبھی زمیں بنجر بھی ہونے لگتی ہے پھر بھی وہ اپنی کشت ویران سے مایوس نہیں ہوتا ، اسے نم کرنے کی کوشش جاری رکھتا ہے ۔
یہ کامیابیاں ، عزت یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے
استاد انسان ساز ہے کیونکہ استاد اپنی روح اپنے شاگردوں میں پھونکتا ہے۔ وہ اخلاق وکردار کی عظمت کا چلتا پھرتا پیکر ہے۔ اس کا عمل اس کے علم کا آئینہ ہے۔ اس کے شاگرد اس کی شخصیت کا عکس ہیں۔ باقی تمام چیزیں انسان بناتا ہے لیکن استاد انسان کو بناتا ہے۔ اس کا کام تمام کاموں سے زیادہ مشکل اور قابل قدر ہے۔ انسان بنانے والا استاد قابل احترام ہے، قابل عزت ہے، قابل تعظیم ہے اور عظیم استاد ہمیشہ درخشاں ستاروں کو جنم دیتے ہیں ۔

