جاگو جگاؤ

پیارے بچو! ہماری نسل کا آپ پر ایک ادھار ہے۔ ہم نے تعلیم سے بڑھ کر آپ کی تربیت کا بھی بندوبست کرنا تھا۔   نصابی کتب کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی آشنا کرنا تھا۔ اپنے اسلاف، اپنی تاریخ، اپنی اقدار سے بھی آگاہ کرنا تھا۔ آپ کے لئے صحت مندانہ سرگرمیوں کے مواقع بھی میسر کرنا تھے۔ آپ کو کتاب بھی تھمانا تھی اور قلم بھی کہ یہ سب کچھ وہ ہے جو ہمارے وقتوں میں ہمارے بزرگوں نے، ہمارے مدرسین نے ہمارے لئے کیا۔ پھر نہ جانے یہ سلسلہ کب، کہاں اور کیسے ٹوٹ گیا؟ کس کا قدم بہکا، کس سے بھول ہوئی، قوم کیوں کتاب اور قلم سے روٹھنے لگی؟

یار لوگ معاشرے میں تیزی سے بڑھتی مادیت پرستی پر الزام دھرتے ہیں تو کوئی ٹیکنالوجی کو دوش دیتا ہے۔ اس کے برعکس ہم سمجھتے ہیں کہ جن  کے ذمہ تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا تھا ان سے چُوک ہو  گئی۔ ان کی ترجیحات بدل گئیں۔ تعلیم سے تربیت کا عنصر منہا ہو گیا اور اب خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے تو آپ کو۔

 روشنی ہم نے نہیں دی اور راستے آپ کے بھٹک گئے ہیں۔

 اس کا ازالہ کیونکر ممکن ہے، بہت سوچا، کچھ نہ سوجھا تو آپ کے کمپیوٹر پہ یہ رسالہ چڑھا دیا۔ ہو سکے تو ہمیں اور ہمارے جیسوں کی پچھلی خطاؤں کو معاف کر دیجئے گا۔ نیا سفر شروع کرتے ہیں۔ آپ بھی ہمارے ہم قدم، ہم رکاب ہو جائیے۔ روشنی پھیلاتے ہیں۔ خود بھی راستہ دیکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی دکھلاتے ہیں۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •