ہادیہ  فیاض (خانیوال)

میں پانی ہوں۔ میں دریاؤں، سمندروں اور جھیلوں میں رہتا ہوں۔ میں سمندروں میں بہت کھارا ہوتا ہوں۔ جب مجھے غصہ آتا ہے تو میں سمندری طوفان بن جاتا ہوں۔ میں دریاؤں میں بہت تیزی میں ہوتا ہوں۔ میرے اندر بہت سی دریائی مچھلیاں ہوتی ہیں۔  جب وہ میرے اندر تیرتی ہیں تو میں بہت خوش ہوتا ہوں۔ رنگ برنگی مچھلیاں میری رونق  اور آب و تاب کو بڑھا کر میری خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ میں نہروں میں رواں دواں ہوتا ہوں اور کھیتوں کو سیراب کرتا ہوں۔ کنویں میں ساکن اور گہرا ہوتا ہوں۔ لوگ مجھے خوشی سے پیتے ہیں۔ صاف شفاف جھیلوں میں میرا رنگ نیلا، سفید، سبز اور گلابی مائل ہوتا ہے۔ میرے اندر موجود پتھر مجھے خوب صورت بنا دیتے ہیں۔ لوگ مجھے دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔ میں برف، مائع اور آبی بخارات کی  شکلوں میں پایا جاتا ہوں۔ جب میرے اوپر سورج کی تیز روشنی پڑتی ہے تو میں آبی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے اور بلندی پر بادل بن کے آسمانوں پر اڑتا ہوں۔ جب میں بارش بن کر برستا ہوں تو کسان اور بچے خوش ہو تے ہیں۔

شیئر کریں
830
7