محمد کامران (احمد پور شرقیہ)
اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو بہت سی نعمتوں یعنی ہوا، پانی، روشنی، دھوپ اور طرح طرح کی کھانے پینے کی اشیاء سے نوازا ہے۔ وہاں مجھے بھی آپ کی خدمت کے لیے بھیجا ہے۔ لوگ مجھے بےجان سمجھتے ہیں لیکن میں لوگوں کی بہترین دوست ہوں۔ میں لوگوں کو ادب سکھاتی ہوں۔ لوگوں کو زندگی کا مقصد سکھاتی ہوں۔ لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی دکھاتی ہوں۔ میں لوگوں کو باوقار شہری بناتی ہوں۔ یقینا آپ نے مجھے پہچان لیا ہو گا۔ جی ہاں! میں کتاب ہوں۔ ذرا سوچیں اور غور کریں کہ کس طرح ایک ننھے سے بیج سے درخت بنا اور پھر اس درخت کو کاٹ کر صفحے بنائے گئے۔ پھر ایک نام ور مصنف نے ناول لکھ کر مجھ پر شائع کروایا، پھر ایک بہت ہی خوب صورت کور لگا کر مجھے فروخت کیا گیا۔ خریدار نے پڑھنے کے بعد مجھے لائبریری میں عطیہ کر دیا۔ شروع شروع میں بہت سے پروفیسر اور طالب علم میرا مطالعہ کرنے آتے۔ پھر آہستہ آہستہ ان سب نے میرا مطالعہ کرنا کم کر دیا۔ پہلے مجھے لائبریری کی سب سے خوب صورت الماری میں سجا کر رکھا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ میری دل کشی کم ہوتی چلی گئی اور ایک دن ایسا بھی آیا جب مجھے بے کار اور فرسودہ کتاب سمجھ کر شکستہ و سیلن زدہ الماری میں رکھ دیا گیا جہاں کئی ماہ گزر گئے مطالعہ کرنا تو درکنار کسی نے میرے اوپر پڑی گرد کو صاف کرنا بھی گوارا نہ سمجھا۔ میں اب اپنی زندگی کے آخری ایام اسی ٹوٹی پھوٹی الماری میں گزار رہی ہوں۔

