عروہ بتول محفوظ (بہاول پور)
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ بہت رحم دل تھا وہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ سیر کرتے ہوئے ایک کسان سے ملا ۔ کسان سے کہا کہ تم اپنے کھیت سے کتنا کما لیتے ہو ۔ کسان نے جواب دیا کہ وہ روز کا ایک روپیہ کما لیتا ہے۔بادشاہ نے پوچھا تم ان پیسوں کا کیا کرتے ہو؟ کسان نے جواب دیا کہ چار آنے کنویں میں ڈالتا ہوں، چار آنے قرض اتارتا ہوں، چار آنے قرض دیتا ہوں اور چار آنے خرچ کرتا ہوں۔ بادشاہ نے پوچھا اس کا مطلب کیا ہے؟ کسان نے جواب دیا کہ چار آنے کنویں میں ڈالنے کا مطلب راہ خدا میں خرچ کر نا ہے۔ چار آنے قرض اتارنے کا مطلب جو رقم میرے والدین نے بچپن میں مجھ پر خرچ کی وہ میں ان پر خرچ کرنے کی کوشش کرتا ہوں، چار آنے قرض دینے کا مقصد اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں تاکہ میرے بڑھاپے میں وہ مجھ پر خرچ کریں ۔ چار آنے خرچ کرنے کا مقصد اپنے اور اپنی بیوی کی ضروریات پر خرچ کرتا ہوں ۔
کسان کا جواب سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور اسے بے شمار انعامات سے نوازا اور کسان سے وعدہ لیا کہ وہ جب تک بادشاہ کا چہرہ 100 مرتبہ نہیں دیکھ لے گا وہ یہ بات کسی کونہیں بتائے گا۔وعدہ لینے کے بعد بادشاہ وہاں سے چلا گیا اور اگلے دن وہی سوالات اپنے درباریوں سے پوچھے جو کسان نے انہیں بتائے تھے لیکن دربار میں موجود درباریوں کے پاس ان سوالا ت کے جوابات نہیں تھے۔ بادشاہ کا ایک وزیر بہت زیرک اور عقل مند تھا، اس نے بادشاہ سے ایک دن کی مہلت لی۔ مہلت ملتے ہی وزیر نے گھوڑے کی زین کسی اور کسان کے پاس پہنچ کر ہی دم لیا۔ کسان سے بادشاہ کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات معلوم کیے۔ کسان نے وزیر سےبادشاہ کی تصویر والے 100 سکے لیے اور اسے سب سوالوں کے جوابات بتا دیے ۔
اگلے دن اس وزیر نے تمام سوالات کے جوابات لفظ بہ لفظ بتا دیے ۔بادشاہ کو کسان پر بہت غصہ آیا کیونکہ کسان نے وعدہ خلافی کی تھی۔ بادشاہ نے کسان کو فوراً اپنے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ کسان دربار میں حاضر ہوا تو اس سے وعدہ خلافی کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ کسان نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ نے حکم دیا تھا کہ جب تک 100 مرتبہ آپ کا چہرہ نہ دیکھ لوں کسی کو ان سوالوں کے جوابات نہ بتاؤں۔ لیکن میں نے آپ کا چہرہ 100 بار دیکھنے کے بعد ہی وزیر کو بتایا۔ بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا تم مجھے دوسری بار مل رہے ہو، میرا چہرہ 100 بار کیسے دیکھ لیا۔ کسان نے بادشاہ کو جواب دیا کہ شاہی سکوں پر آپ کی تصویر منقش ہے میں نے 100 سکوں پر آپ کی منقش تصویر کو دیکھ لیا اور وزیر سے 100 سکے لینے کے بعد ہی وزیر کو جوابات دیے۔ بادشاہ کسان کی دانائی سے بہت خوش ہوا اور اسے انعامات و اکرامات سے نوازنے کے بعد اپنا وزیر بھی بنا لیا۔ پیارے بچو! ہمیشہ عقل اور حکمت و دانائی سے کام لے کر ہم بھی دوسروں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ دانائی ہی مومن کی میراث ہے۔

