تسنیم مظہر (مظفرگڑھ)
زمانے کے بے رحم تھپیڑے اور زندگی کی خاردار جھاڑیوں کی چبھن پہلی بار اس دن محسوس ہوتی ہے جب سر سے باپ کا سایہ اٹھتا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں سکول کی ایک ٹیچر نے سوال کیا تھاکہ آپ جانتے ہیں سب سے معصوم کون ہے؟ چند سیکنڈ بعد انہوں نےخود ہی جواب دیا۔وہ لوگ جن کےسر سے تحفظ (ماں باپ) کا سایہ چھن جائے، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کا خیال رکھیں۔ ماں باپ کا نعم البدل دنیا کی کوئی چیز نہیں ہو سکتی اور نہ کبھی ہو گی۔ دنیا میں جو لوگ اس قیمتی رشتے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ یتیم کہلاتے ہیں۔ لفظ یتیم کہنے میں بھی کتنا عجیب اور تکلیف دہ لگتا ہے۔ اس لیے یہی دعا ہے کہ خدا کسی کو یتیم نہ کرے۔ لیکن کائنات کا ایک اصول ہے، جس پر ہر مسلمان کا یقین ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے اسے جانا بھی ہے کیونکہ انسان خداکی ایک امانت ہے۔ دینِ ا سلام یتیموں کو سہارا دینے، ان کی مکمل کفالت کرنے، ان سے پیار کرنے، انہیں کھانا کھلانے، وسائل مہیا کرنے اور آسودگی فراہم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ دنیا بھر میں نومبر کے دوسرے ہفتے میں پیر کے روز یتیم بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یونی سیف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دُنیا میں اس وقت 15کروڑ30 لاکھ بچے یتیم ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کی تعداد 16کروڑ 80لاکھ ہے اور اس بڑی تعدا د کا 11فیصد حصہ یعنی 6کروڑ بچے یتیم ہیں اور یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر ان بچوں سے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے تو پوری دنیا کے گرد حصار بن سکتا ہے۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد کی طرح یتیم بچّوں کے بھی تعلیمی اخراجات اور ان کی ضروریات زندگی کو اپنی استطاعت کے مطابق پورا کریں اور ان کی بہترین تعلیم و تربیت کریں۔بطور مسلمان یہ مدد دینی و دنیاوی خوشنودی کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔

