ام رب نواز (مظفرگڑھ)

حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں  یوں تو ہر شخص کے ساتھ بہترین برتاؤ اور ہر ایک کے حقوق کی پاس داری  کا اہتمام ملتا ہے، لیکن سیرت نبوی  ﷺ میں بچوں کے ساتھ شفقت اور کرم گستری کے جو واقعات ملتے ہیں ، اس سے آپﷺ کی زندگی کی سادگی ، بچوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور ان کے ساتھ معاملات اور سلوک وبرتاؤ کا بھی پتہ دیتے ہیں، بچے معصوم ہوتے ہیں، وہ اس چمنستانِ عالم میں رنگ برنگے پھولوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں، انہیں کے دم خم سے رونق جہاں قائم ودائم ہے، ان کی ایک ایک ادا ماں باپ کے لیے آب حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ آنحضور ﷺ بچوں  کے ساتھ  بہت زیادہ پیار کرتے تھے اور ان کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے تھے۔ بچوں کے پاس سے گزرتے، بچوں سے ملتے تو ہمیشہ انہیں سلام کرتے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ بچے کھیل رہے تھے ، حضور ﷺ کے پاس سے گزرے تو حضور ﷺ نے ان کو پہلے سلام کیا۔ حضور ﷺ بچوں سے بہت بے تکلف تھے، آپ ﷺ  بچوں کوبہت پیار اور توجہ دیتے، ان سے ہنسی مذاق کرتے،  ان سے کھیلتے، ان سے دل لگی کرتےاور ان کو بہلاتے۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، نمازکے بعد حضور ﷺ اہل  خانہ کی طرف جانے لگے تو میں بھی حضورﷺ کے ساتھ چل پڑا، وہاں پہنچے تو  بچے حضور ﷺ کے استقبال کے لئے کھڑے تھے، حضور ﷺ ان  کے پاس رک گئے،  ا یک ایک بچے کے گالوں کو حضورﷺ نے  اپنے ہاتھ سے سہلایا، وہ کہتے ہیں کہ میں تو حضور ﷺ کے ساتھ آیا تھا لیکن حضور ﷺ نے پھربھی میرے گالوں کو  سہلایا، جب حضور ﷺ اپنا دست شفقت میرے گالوں پر پھیررہے تھے تو مجھے حضور ﷺ کے ہاتھوں میں ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس ہوئی گویا حضور ﷺنے انہیں کسی عطار کے تھیلے سے نکالا ہے۔

حضور ﷺ باہرسے تشریف لاتے  تو بچے آپ ﷺ کو دیکھ کر آگے بڑھتے ، آپ ﷺ ان کو اپنی سواری پر آگے پیچھے بٹھالیتے۔ ایک بار ایک بدو یعنی دیہات کا رہنے والا حضورﷺ کے  پاس آیا،  اس نے دیکھا کہ  آپ ﷺ بچوں سے پیار کر رہے ہیں ، اس نے عرض کی کہ حضورﷺ! میرے  تو اتنے بچے ہیں  لیکن میں نے کبھی کسی سے پیار نہیں کیا، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا  کہ اگر خدا نے تمہارے دل سے شفقت لے لی ہوتو میں کیا کرسکتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا  کہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، خدا بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔

حضورﷺ کےلے  پالک بیٹےحضرت زیدرضی اللہ عنہ تھے جن کا ذکر قرآن  مجید میں بھی آیا ہے،یہ ایک غلام تھےاور عربوں میں غلام کی کوئی حیثیت نہ تھی ، یہ طبقہ بہت ہی مظلوم و مقہور تھا ، مالک جو چاہتا ان سے سلوک کرتا، ان کی حالت مویشیوں سے بھی بدتر تھی، حضورﷺ نہ صرف حضرت زیدرضی اللہ عنہ  کو بہت عزیز رکھتے تھے بلکہ ان کے بیٹے اسامہ سے بھی بہت پیار کرتے، اپنے بچوں کی طرح انہیں رکھتے۔ حضورﷺ اپنے نواسےحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے  ایک زانو پر بٹھالیتے اور اسامہ کو دوسرے پر اور دونوں کو سینہ سے لگا تے اور فرماتے:  اللہ میں ان سے پیار کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کرنا۔حضورﷺ کی سنت کو اپناتے ہوئے ہمیں بھی بچوں سے شفقت سے پیش آنا چاہیئے۔

شیئر کریں
289
4