روشنی میگزین: سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی قابل فخر کاوش

نعیم احمد ناز

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب نے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں مطالعے کی عادت راسخ کرانے، قومی زبان اردو کی ترویج اور طلباء و طالبات میں کتب بینی اور تحریر نگاری کے ذوق کو اجاگر کرنے کے لیے ‘فروغ’ کے نام سے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گزشتہ سال ستمبر میں بچوں کے پہلے ڈیجیٹل میگزین ‘روشنی’ کا اجرا کیا گیا۔ روشنی کو پاکستان اور شاید دنیا بھر کے بچوں کے لیے اردو کے پہلے باقاعدہ آن لائن میگزین کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور آج یہ میگزین ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے طباعتی شکل میں منصہ شہود پر آ چکا ہے۔

مزے دار اور دل چسپ نگارشات، دیدہ زیب رنگوں اور خوب صورت تصاویر سے مرصع و مسجع ماہ نامہ روشنی میگزین کے بانی و مدیر اعلا سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب ڈاکٹر احتشام انور ہیں جب کہ مدیر محمد فہیم عالم اور معاون مدیران میں نذیر انبالوی اور راقم الحروف (نعیم احمد ناز) شامل ہیں۔ معروف کالم نگار اور دانش ور، موقر نیوز ویب سائٹ ‘ہم سب’ کے مدیر اعلا وجاہت مسعود اور بیلا رضا جمیل اس کی مجلس مشاورت میں شامل ہیں۔

ماہ فروری 2022ء کے پہلے شمارے کا آغاز ‘کچھ ہمارے بارے میں’ کے عنوان سے ڈاکٹر احتشام انور کی چند فکر انگیز معروضات سے ہوتا ہے جس میں وہ روشنی کی اشاعت کے پس منظر اور عوامل کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی بے قدری، کتب بینی اور مطالعہ کی دم توڑتی روایات پر درد مندی سے اظہار خیال کرتے نطر آتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہم شاید وہ آخری نسل ہیں جو کتابوں کے سائے میں پل کر جوان ہوئی۔ افسوس صد افسوس ٹیکنالوجی کے اس دور میں کتاب کہیں کھو گئی اور اب عالم یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل مافی الضمیر کو، کم ازکم اردو کی حد تک، زبانی یا تحریری شکل میں بیان کرنے میں دقت محسوس کرتی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اردو زبان کو اپنی بقا کی جنگ لاحق ہے تو شاید یہ بھی غلط نہ ہو گا۔

ڈاکٹر احتشام انور کہتےہیں کہ کتاب ہاتھ سے چھوٹنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہماری معاشرتی و اخلاقی اقدار کا شیرازہ ہی بکھر کر رہ گیا ہے۔ آج کا نوجوان نہ تو اپنی تاریخ سے واقف ہے، نہ ثقافت سے جڑا ہوا، معاشرت کے سبق پڑھتا ہے نہ قومی و بین الاقوامی ادب کے شہ پاروں سے مستفید ہوتا ہے۔ البتہ انٹرنیٹ تک رسائی ضرور ہے اس کی، لیکن جو معلومات انٹرنیٹ پہنچاتا ہے وہ شاید وسیع تو ہیں، گہری نہیں۔ ہمیں اب کتاب اس کے ہاتھ میں دوبارہ تھمانی ہے۔ مطالعے کی عادت پھر سے متعارف کروانی ہے۔ اسی ارادے کے ساتھ ڈیجیٹل اور طباعتی بنیادوں پر روشنی میگزین کی داغ بیل ڈالی گئی کہ نوجوان کا انٹرنیٹ بھی نہ چھوٹے اور مطالعہ بھی ہوتا رہے۔

ڈاکٹر احتشام انور بطور سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب، بچوں میں مطالعے کی عادت متعارف کروانے اور اسے فروغ دینے کے لیے ایک جامع منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں چھٹی جماعت کی سطح پر چار چار بچوں پر مشتمل مطالعاتی حلقے (گروپ) قائم کیے گئے ہیں۔ ہر گروپ کے ایک بچے کو مہینے کی پہلی تاریخ کو روشنی میگزین تھما دیا جائے گا۔ ایک ہفتے کے بعد یہ میگزین دوسرے بچے اور اسی طرح تیسرے اور چوتھے ہفتے میں، تیسرے اور چوتھے بچے کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ان 28 دنوں کے بعد، مہینے کے باقی بچ جانے والے دو تین دنوں میں اردو کا ٹیچر اپنی کلاس میں اس میگزین کی بابت بحث کروائے گا کہ کیا پڑھا، کیا اچھا لگا، کیا اچھا نہیں لگا، کیا نئی بات سیکھی۔ اس بحث و مباحثہ میں شرکت اگرچہ اختیاری ہو گی لیکن اس کا مقصد ایک طرف بچوں میں میگزین کے مطالعے سے حاصل ہونے والے فوائد کو راسخ کرنا ہو گا تو دوسری طرف غیر محسوس انداز میں ان بچوں کو بھی احساس دلانا اور مطالعے کی طرف مائل کرنا ہو گا کہ جو میگزین پڑھنے میں کوتاہی برتنے کے سبب اس بحث میں یکسر یا خاطر خواہ حصہ نہ لے پائیں گے۔

روشنی کے پہلے شمارے کو شہید پاکستان حکیم محمد سعید سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر احتشام انور لکھتے ہیں کہ ماہ نامہ ‘نونہال’ کے ذریعے ہمارے ہاتھوں میں کتاب اور قلم تھمانے والے تو حکیم محمد سعید صاحب تھے، صرف یہی نہیں، حکیم صاحب نونہال میں ہر ماہ ‘جاگو جگاؤ’ کے مستقل عنوان سے ایک مختصر اظہاریہ لکھ کر نونہالان وطن کی اخلاقی تربیت کا اہتمام کرتے تھے، اس قابل تقلید روایت کی یاد میں روشنی کے اداریہ کو بھی ‘جاگو جگاؤ’ کا نام دیا گیا ہے۔

فروری کے اس پہلے شمارے کا اداریہ بھی ڈاکٹر احتشام انور کی ندرت فکر کا کمال ہے۔ اس میں وہ ایک مصلح پسند بزرگ اور اہل دل افسر کی حیثیت سے بچوں سے مخاطب ہوتے ہیں کہ ہم نے تعلیم سے بڑھ کر آپ کی تربیت کا بندوبست بھی کرنا تھا، نصابی کتب کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی آشنا کرنا تھا، جن کے ذمے تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا تھا ان سے چوک ہو گئی، تعلیم سے تربیت کا عنصر منہا ہو گیا اور اب خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے تو آپ کو، روشنی ہم نے نہیں دی اور راستے آپ کے بھٹک گئے ہیں۔ بہت سوچا، کچھ نہ سوجھا تو آپ کے ہاتھوں میں یہ میگزین تھما دیا۔

روشنی کے پرنٹ ایڈیشن کے اجرا پر شہید حکیم محمد سعید کی صاحب زادی اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد کا خصوصی پیغام بھی شامل اشاعت ہے۔ اپنے پیغام میں وہ کہتی ہیں کہ ڈیجیٹل میگزین کے ساتھ پرنٹ ایڈیشن کا اجراء یقیناً لائق تحسین اور صدقہ جاریہ ہے، بچوں کے لیے کام کرنا گویا ملک کا مستقبل سنوارنے کے مترادف ہے۔

روشنی کے صفحہ نمبر 6 پر ‘پیارے اللہ کی پیاری باتیں’ اور ‘پیارے رسول کی پیاری باتیں’ کے عنوان سے قرآن و حدیث کی معلومات کا ایمان افروز سلسلہ شامل ہے جسے صدیقہ قاسم اور حسنی نورالعین نے ترتیب دیا ہے۔ جب کہ صفحہ نمبر 7 محمد فہیم صدیق عاجز کی خوب صورت نظم ‘اچھے بچے تم کہلاؤ’ سے آراستہ ہے۔

میگزین میں اگر کہانیوں پر نظر دوڑائی جائے تو صفحہ نمبر 8 پر پہلی کہانی معروف کہانی نگار نذیر انبالوی کی ہے جو ‘پھولوں والی سائیکل’ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے، اس کے علاوہ میگزین کے سلسلے ‘بچوں کا کلاسیکی ادب’ میں اردو ادب اطفال کے معماروں میں شمار ہونے والے معروف ادیب سید نظر زیدی کی کہانی ‘جگنو میاں کی دم’ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ میگزین میں بچوں کے انگریزی ادب سے خوب صورت انتخاب بھی شامل ہے، اس سلسلے میں ڈورتھی ایل۔ سائرز کی کہانی Mr. Bud’s Great Idea کا ترجمہ ‘مجرم کے بال’ کے نام سے شائع ہوا ہے جسے گل رعنا صدیقی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

بچوں کے نام ور ادیب محمد فہیم عالم کی گوشی سیریز کی سلسلہ وار کہانی ‘جادوئی گاجر’ جب کہ محمد ندیم اختر کی عبیرہ سیریز کے سلسلے کی ایک ‘بے نام کہانی’ بھی میگزین میں شامل ہے۔ اس کہانی کی خاص بات یہ ہے کہ عنوان تجویز کرنے پر پندرہ سو روپے کے اول، دوئم اور سوئم انعامات رکھے گئے ہیں۔ میگزین میں بچوں کی دلچسپی کے لیے حمنہ عالم کی تصویری کہانی ‘میز کی شکایت’ اور محمد شرافت کشمیری کی تصویری کہانی ‘مجرم کون’ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے، اس کہانی کے مجرم کو پہچاننے پر بھی ہزار روپے تک کا انعام رکھا گیا ہے۔

روشنی میں کہانیوں کے علاوہ اور بھی کئی معلوماتی تحریریں شامل اشاعت ہیں، اس سلسلے میں شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی شخصیت، خدمات اور اقوال پر دیا خان بلوچ کا مضمون قابل ذکر ہے جب کہ جنوبی پنجاب کے اثار قدیمہ اور خوب صورت مقامات سے قارئین کو متعارف کرانے اور تاریخ کے گوشوں کو عیاں کرنے کے لیے میگزین میں خصوصی گوشہ مختص کیا گیا ہے، اس سلسلے میں پہلی تحریر راقم الحروف (نعیم احمد ناز) کی ہے جو ‘جنوبی پنجاب کا ہزار داستان شہر: اوچ شریف’ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔

روشنی میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کی ارسال کردہ نگارشات پر مشتمل ‘گدگدی’، ‘بزم روشنی’، رنگارنگ’، ‘اقوال زریں’، ‘سہیلی بوجھ پہیلی’ اور ‘ننھے مصور’ کے عنوان سے کئی دلچسپ سلسلے بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ‘مسئلہ آپ کا حل ہمارا’ کے عنوان سے ایک ایسا سلسلہ بھی شامل اشاعت ہے جس میں طلباء و طالبات کے مسائل کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کا حل بتایا جاتا ہے۔

میگزین میں ذہنی آزمائش کے انعامی سلسلے بھی شامل ہیں۔ روشنی کچن کے سلسلے میں مزے دار چیزیں بنانا سکھائی جاتی ہیں۔ اساتذہ کرام کی تحریروں سے آراستہ ایک سلسلہ ‘گوشہ اساتذہ’ کے عنوان سے شامل ہے، فروری کے مہینے میں حافظ محفوظ الحق کی تحریر ‘تعلیم کے ساتھ تربیت کیوں ضروری ہے’ کے عنوان سے شامل اشاعت ہے۔

روشنی کی خاص بات اس میں شامل ہونے والے انعامی سلسلے ہیں۔ نوآموز لکھاریوں کو ان کی تخلیقات کے علاوہ ہر ماہ بہترین مصوری اور خطوط پر پندرہ ہزار روپے کے انعامات دیے جائیں گے۔ میگزین میں شامل تمام تحریروں کے مشکل الفاظ کے معانی، اعراب اور صحیح اردو تلفظ پر مشتمل ایک منفرد سلسلہ بھی شامل ہے۔

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کے زیر اہتمام شائع ہونے والے اس خوب صورت میگزین کا ناشر ادارہ ‘بچوں کا کتاب گھر’ ہے۔ 52 صفحات پر مشتمل اس رنگارنگ میگزین کی تعارفی قیمت 80 روپے رکھی گئی ہے جب کہ سالانہ ممبر شپ بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک 1400 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسے 21 فرسٹ فلور، حادیہ حلیمہ سنٹر، غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور (ٹیلی فون نمبر 04237300590) سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

نگارشات بھیجنے کے لیے میگزین کا ای میل ایڈریس mail@roshni.net.pk ہے۔ ‘روشنی’ کے ڈیجیٹل ایڈیشن کو ویب سائٹ www.roshni.net.pk پر وزٹ کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر اگر جائزہ لیا جائے ‘روشنی’ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی ایک قابل قدر اور خوب صورت کاوش ہے، اسے نہ صرف اپنے دوستوں میں متعارف کرانے کی ضرورت ہے بلکہ اگر آپ کا شمار والدین اور اساتذہ میں ہوتا ہے تو سماجی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے بچوں اور دیگر طلبہ ‘روشنی’ پڑھنے اور اس میں لکھنے کی ترغیب دینی چاہیے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •