مرا بچپن، مرے جگنو، مری گڑیا لا دے

ذکیہ غفار (لیہ)

انسان کا بچپن نہایت خوب صورت ہوتا ہے۔ جب اس کو کسی بھی چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ نہ صبح کا پتہ، نہ شام کا غم۔ ہر قسم کے تفکرات سے آزاد زندگی ہوتی ہے اور جوان ہونے پر انسان کے تفکرات اُسے اس کے بچپن کی یاد دلاتے ہیں۔ بقول نوشی  گیلانی۔۔۔

کچھ  نہیں چاہییے تجھ سے اے مری عمر رواں

مرا بچپن مرے جگنو مری گڑیا لا دے

میرا بچپن نہایت آرام اور سکون سے گزر ہا تھا۔ صبح سویرے اُٹھ کر نہا دھو کر ناشتہ کرتے اور ابّو کے جانے کے بعد امّی اپنا کام کرتیں تو میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور سہیلیوں کے ساتھ کھیل کُود میں مصروف ہو جاتی۔ انہی چھوٹی چھوٹی شرارتوں میں دن گزر رہے تھے کہ اچانک وہ دن بھی آ گیا جو ہماری آزادی کے دنوں کی بربادی کا سامان لے کر آیا۔ پتا چلا کچھ دنوںمیں ہم سکول جیسی جگہ پر جانے والے ہیں۔ امی نے مجھے اس کے لیے تیار کرانا شروع کیا۔ اُنہوں نے مجھے علم کی اہمیت اور سکول کے حوالے  سے  بہت اچھی باتیں بتائیں۔  

اس سے پہلے پڑھائی کا تصّور تک میرے ذہن میں نہ تھا۔ صرف یہ سوچتے تھے کہ ابھی ہم بچے ہیں اور جب بڑے ہوں گے تو کام کریں گے، مگر ہمارے ناپختہ ذہن نے یہ دن دکھلایا کہ سکول جیسی نئی جگہ پر جانے سے پہلے دماغ میں طرح طرح کے خیالات آنا شروع ہوئے تو میں نے ساتھ والی آپی جو پڑوس میں رہتی تھیں، اُن سے پوچھا کہ سکول کس طرح کا ہوتا ہے؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے؟ اُنہوں نے ڈرایا کہ اُستانی سخت گیر ہوتی ہے اور جو نافرمان بچے ہوں ۔اُن کی تربیت وہ ڈنڈے سے کرتی ہیں۔ خیر سکول جانے سے ایک دن پہلے ابو میرے لیے سکول کا یونیفارم، بستہ اور کتابیں لے آئے۔

آخر وہ دن بھی آ پہنچا جس دن ہم نے سکول جانا تھا۔ امّی جان نے ہمیں یونیفارم زیب تن کرا کے  بستہ ہمارے کندھے پر ڈال دیا اور یوں ابّو جان نے ہمیں اپنی موٹر کار میں بٹھایا اور ہمیں سکول کی طرف لے چلے۔ سکول کے مرکزی دروازے پر ہم اترے اور اندر کی طرف داخل ہونے لگے تو وہاں موجود ایک خاتون  نے ہمیں پرنسپل صاحبہ کے کمرے کا رستہ دکھایا۔ راستے میں ہم کئی کلاس رومز سے گزر کر پرنسپل صاحبہ کے کمرے تک پہنچے۔ ہر کلاس روم میں ایک معلمہ مقرر تھی جو ان بچوں کو پڑھا رہی تھی۔ اس اجنبی ماحول سے گھبرا کر میں روہانسی ہو گئی۔ ابھی ہمیں کمرے میں بیٹھے چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ ایک بزرگ خاتون اندر داخل ہوئیں۔ وہ پرنسپل صاحبہ تھیں۔ انہوں نے سلام کیا اور ہم احتراماً کھڑے ہو گئے۔ ان کے بیٹھنے کے بعد ہم بیٹھ گئے۔ میرے والد صاحب نے میرا تعارف کروایا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا  لیا۔ میں آہستہ آہستہ جھجکتی ہوئی ان کے پاس گئی۔ انہوں نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرااور میرانام اور والد صاحب کا نام پوچھا۔ جس پر وہ مسکرائیں اور ایک خاتون  کے  ذریعے مجھے کلاس روم  میں بھیج دیا۔وہ  عورت  میرا ہاتھ  پکڑے مجھے میرے کلاس روم کی طرف لے کر آئی تو وہاں ایک استانی صاحبہ پہلے سے موجود تھیں، جنہوں نے مجھے ایک لڑکی کے ساتھ بٹھا دیا۔ پہلے تو میں گھبرائی پھر استانی  صاحبہ کی محبت اور شفقت میں تمام کام آسان لگنے لگے۔ انہوں نے اردو اور انگر یزی کے قاعدوں سے کچھ سبق پڑھایا۔ اتنی دیر میں گھنٹی کی آواز آئی اور تفریح ہو گئی۔

کلاس روم میں جانے سے پہلے ابو نے مجھے پانچ روپے دیے  تھے۔ تفریح کے وقت  ان روپوں سےمیں  نے کچھ چیزیں لیں اور  گراؤنڈ میں بیٹھ کر  کھانے  لگی۔ اسی دوران میری  کلاس فیلوز اور  سکول کی دیگر لڑکیاں بھی وہاں آ گئیں۔ ان کی موجودگی  سے مجھے کافی حوصلہ ہوا۔ ایک لڑکی  نے مجھے ٹھنڈا مشروب  پلایا اور کچھ ہی دیر میں ہم کھیلنے لگے ۔

کھیل میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ  چلا اور تفریح ختم ہونے کی گھنٹی بج  گئی۔ ہم نے اپنے کپڑے جھاڑے اور کلاس روم کا رُخ کیا۔ بچے بہت شور مچا رہے تھے کہ اچانک اُستانی صاحبہ آگئیں اور اُنہوں نے دو لڑتی ہوئی بچیوں کو کلاس سے باہر نکال دیا، جس سے مجھے پتا چلا کہ لڑنا بری عادت ہے اور اس پر سزا ملتی ہے۔ کمرہ جماعت میں مجھے اپنی کتابیں پڑھنا، تختہ سیاہ پر مختلف انداز میں استانی جی  کا لکھنا اور بچوں کا متوجہ کر کے پڑھانانہایت عجیب سا احساس پیدا کر رہا تھاجو خوش گوار بھی تھا اور دلکش بھی۔ تھوڑی دیر  بعد سکول میں چھٹی کی گھنٹی بجی تو تمام بچے قطار در قطار کمرے  سے نکلے مگر باہر جا کر ہجوم میں میرا دم گھٹنے لگا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔ سکول کے سکیورٹی گارڈ  نے مجھے اور میرے  جیسے  دوسرے بچوں کو  گیٹ تک پہنچایا۔ گیٹ کے  سامنے میں نے اپنے ابوکودیکھا۔ میں اُن کی طرف بھاگتی ہوئی گئی اور اُن سے لپٹ گئی۔ اُنہوں نے میراماتھا چُوما اورہم لوگ واپس گھر کی طرف چل پڑے۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنی امّی کو سلام کیا اور بھُوک کی وجہ سے باورچی خانہ میں بیٹھ گئی ۔ امّی نے جلد ہی ڈائننگ ٹیبل کھانا لگا دیا اور سب گھر والوں نے مل کر کھانا کھایا۔یہ میری زندگی کا یادگار دن تھا۔جس میں میرے ذہن کے تمام خودرو خیالات غلط ثابت ہوئے اور ان خیالات کو میں آج تک نہیں بھول سکی۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1893
26