حلیمہ رمضان (بہاول نگر)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ  چڑیا نے ایک درخت پر گھونسلا بنایا اور دو انڈے دیے۔اس درخت کے ساتھ ہی گندم کاشت کی ہوئی تھی ، گندم ابھی نشوونما پارہی تھی اور چڑیا کے بچے بھی ابھی بہت چھوٹے تھے۔ چڑیا اس وجہ سے پریشان ہورہی تھی کہ اگر گندم پک گئی تو وہ کہاں جائیں گے۔ آخرکار ایک دن گندم پک گئی اور کاٹنے کے قابل ہوگئی۔ چڑیا کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے کہ اب وہ کہاں جائے گی کیونکہ اس کے بچے ابھی بھی بہت چھوٹے تھے وہ روزانہ دانہ دنکا چگنے جاتی اور اپنے بچوں کو یہ نصیحت کر کے جاتی کہ اگر کھیت کا مالک آئے تو اس کی باتیں سننا ۔ایک دن کھیت کا مالک آیا اور اس نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ تم اپنے دوستوں سے مدد مانگو اور ہم اگلی ہی صبح گندم کاٹیں گے۔چڑیا واپس آئی تو اس کے بچوں نے اسے سب کچھ بتا دیا۔ چڑیا نے کہاتم پریشان نہ ہو وہ صبح فصل نہیں کاٹیں گے۔ اگلی صبح وہ مالک آیا توگندم کے کھیت میں کوئی بھی نہیں تھا ۔ اس نے اپنے بچوں کو بلایا اور کہا کہ تم اپنے چچا زاد بھائیوں سے مدد طلب کرو۔ اگلی صبح بھی اسی طرح ہوا اور اس کے چچا زاد بھائی گندم کٹوانے کے لیے نہیں آئے۔ آخرکار کھیت کے مالک نے تنگ آ کر کہا ہم صبح خود ہی فصل کاٹیں گے۔ چڑیا واپس آئی تو اس کے بچوں نے ساری تفصیل اس کو بتائی ۔ چڑیا اپنے بچوں کو لے گئی ۔چڑیا کے بچوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا جب کہ پہلی دفعہ بھی انھوں نے فصل نہیں کاٹی  تھی۔ چڑیا نے کہا بیٹا ! آج کل کوئی کسی کا نہیں ہوتا ۔ ہمیں اپنے کام خود کرنے چاہئیں اور خودہی  کام کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ پیارے بچو! ہمیں  بھی دوسروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے  اپناکام خود  کرنا چاہیے۔

شیئر کریں
33