فاکہہ اشفاق (مظفرگڑھ)
نائلہ ایک ذہین ، بہادر اور سمجھ دار لڑکی تھی ۔ بچپن ہی سے اس میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کر کے وطن کی خدمت کرنے کا جذبہ اور شوق موجود تھا ۔ وہ اکثر بہادر فوجیوں کے قصے پڑھتی تھی اور دل ہی دل میں سوچتی تھی کہ ایک دن وہ بھی انہی بہادروں کی طرح اپنے ملک و قوم کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے گی اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان بھی نچھاور کر دے گی ۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ دل لگا کر پڑھے اور امتیازی نمبروں سے ہر امتحان میں کامیابی حاصل کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی تربیت و نشوونما کا بھی خاص خیال رکھے ۔ اس نے پرائمری سے مڈل اور پھر میٹرک تمام امتحانات میں اپنی قابلیت و صلاحیت کے خوب جوہر دکھائے۔ نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی ۔ میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کرنے کے بعد اس نے ایف ۔ ایس سی کے امتحان میں بھی 94 فیصد نمبر حاصل کیے ۔ جس کی بنیاد پر اس نے آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور اپنی بھرپور محنت سے ایم ۔ بی ۔ بی ایس کا امتحان پاس کر کے پاکستان آرمی میں بطور لیڈی ڈاکٹر شمولیت اختیار کی ۔ اُس کی اِس کامیابی پر تمام گھروالے اور عزیز و اقارب بہت ہی خوش تھے ۔ خاص طور پر اس کے والدین کو اپنی بیٹی کی کامیابی پر بہت ہی فخر تھا ۔ وہ سی۔ایم۔ایچ میں مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی۔لیکن اس کی خواہش تھی کہ وہ ملک و قوم کے لیے کوئی بڑا کام سر انجام دے۔
وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزرتا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مہارت و قابلیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔اب وہ آرمی کی ایک معروف سرجن تھی۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آرمی نے آپریشنز شروع کیے تو اس دوران آرمی کے بہت سے جوان اور آفیسرز زخمی و شہید ہوئے۔ڈاکٹر نائلہ کو اپنے فوجی بھائیوں کا علاج کر کے ہمیشہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا تھا۔ایک دفعہ آرمی آپریشنز کے دوران پاکستان آرمی کے ایک کرنل دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر بہت ہی شدید زخمی حالت میں سی۔ایم۔ایچ لائے گئے۔ان کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا اور ان کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔انہیں آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا اور ان کی سرجری کی ذمہ داری ڈاکٹر نائلہ کی تھی۔ڈاکٹر نائلہ نے اپنی زیر نگرانی بہت ہی قابل ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کی ایک ٹیم کا انتخاب کیا اور اس سرجری کو اپنی زندگی کا بہت بڑا چیلنج سمجھ کر سر انجام دینے کا فیصلہ کیا۔اس ٹیم نے بھرپور کوشش اور کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد اپنا کام مکمل کیا اور ایک ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اللہ تعالی کی خاص رحمت ہوئی اور کرنل صاحب کی جان بچ گئی۔کچھ عرصہ بعد وہ مکمل طور پرصحت یاب ہو گئے۔ڈاکٹر نائلہ کو اپنے ڈیپارٹمنٹ اور کرنل صاحب کے خاندان کی طرف سے بھرپور شکریے اور داد و تحسین کے پیغامات موصول ہوۓ۔اس دن ڈاکٹر نائلہ بہت ہی خوش تھی جب چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے اسے پھولوں کا گلدستہ اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ترقی کے آرڈرز ملے۔اس طرح بالآخر ڈاکٹر نائلہ نے اپنی محنت کا صلہ پا لیا۔
پیارے بچو! اللہ تعالی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا اور ہر کسی کو اس کی محنت کا بدلہ ضرور عطا کرتا ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی ڈاکٹر نائلہ کی طرح خوب دل لگا کر پڑھیں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔

