اداس نسلیں: وجودی مسائل کی خوبصورت داستان

نعیم احمد ناز

بوریت، بے کاری اور مایوسی سے لبریز ان دنوں میں ہمیں اردو ادب کی شان دار کتاب اداس نسلیں کے مکرر مطالعے کا ایک بار پھر موقعہ ملا۔ اس ناول میں عبداللہ حسین نے مذہب، محبت، خدائی انصاف، سیاست، انسانی دکھوں اور گزرتے وقت کے ساتھ فرد کے اندرون کی اور سمٹ کے آنے والے وجودی مسائل کا ایک کہانی کی صورت میں احاطہ کیا ہے اور کیا ہی خوب کیا ہے۔ مذکورہ ناول کا ایک حسب حال اقتباس قارئین کے حسن ذوق و نظر کی نذر ہے۔

اقتباس میں وبا (قحط بنگال) اور خدائی انصاف کے سوال پہ ناول کے مرکزی کردار نعیم کا دوست انیس الرحمان مندرجہ ذیل طرز سے روشنی ڈالتا ہے۔ یقینی طور سے عالمی ادب کے اعلیٰ پائے کے اس زبردست ناول کے بارے میں ایک اقتباس پڑھ کے رائے قائم کرنا قطعی ظلم ہو گا۔ ممکن ہو تو وقت نکال کر مطالعہ ضرور کیجیے۔

ایک وقت تھا جب میں سوچتا تھا کہ مصیبتیں برے لوگوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہیں اور ایک سادہ سے اصول کے مطابق گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ مگر اصول؟ اصول کیا چیز ہیں؟ مجھے پتا چلا کہ وہ عقل مندی کی باتیں جو میں نے لڑکپن اور جوانی میں سیکھیں۔ وہ سارے زریں اقوال۔ کچھ بھی نہیں! اگر ہمیں بندھے ٹکے اصولوں کے مطابق ہی زندگی بسر کرنی ہے تو پھر خدا بیچ میں کہاں آتا ہے؟

انصاف کہاں گیا؟ انصاف جو ہم نے صدیوں کے الٹ پھیر سے سیکھا ہے۔ جنگوں اور وباؤں اور قحطوں اور زلزلوں اور دوسری آسمانی بلاؤں کے بعد سیکھا ہے۔ کیا آپ اس سے کوئی خاص اصول وضع کر سکتے ہیں؟ کوئی پیٹرن؟ یا گزشتہ زمانوں سے حاصل کیے ہوئے تمام انسانی علم، تمام انسانی دکھ کا کوئی پیٹرن؟ ہمیں آج اس بات کا علم ہے کہ یہ لمبی چوڑی متضاد اور منتشر آفتیں تھیں جو ہم پر اور ہمارے آباء و اجداد پر نازل ہوئیں۔ ہم نے ان سے سوائے زریں اقوال کے کیا حاصل کیا ہے؟ سنہری اصول!

وہ طنز سے ہنسا۔

جو انسانی مشاہدے کی ایک بے حد سطحی کاوش ہیں، کسی چیز سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دودھ کے گلاسوں سے، یا ٹوٹی پھوٹی موٹر گاڑیوں سے یا آدمی اور بھینس کی باہم لڑائی سے بھی۔ مثلاً یہ کہ ’اے انسانو! بھینسوں سے مت لڑو‘ ۔ دوسرے لفظوں میں سنہری اصول انتہائی متضاد واقعات سے بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں، لیکن کیا ہم تضاد سے انصاف حاصل کر سکتے ہیں؟ یا انصاف کی کوئی صورت ہی؟ جب کہ اصول، جو کہ ایک سطحی اور بے بس مشاہدے کا نتیجہ ہیں، متضاد اور منتشر ہونے کے باوجود ایک ہی عنوان کے تحت ترتیب دیے جا سکتے ہیں، انصاف کے ساتھ ایسا نہیں کیا جا سکتا۔

اس کا اثر براہ راست اور گہرا ہے۔ اصول ایک بے بسی کا علم ہے جن کا ہماری زندگیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک کتاب کی طرح؛ آپ کے اختیار میں ہے کہ پڑھ کر اس سے مستفید ہوں یا اسے اٹھا کر شروع سے آخر تک پڑھیں اور بھول جائیں، یا پھر اسے ہاتھ نہ لگائیں اور میز پر محض گرد کے نیچے دبنے اور گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ دیں۔ انصاف کے ساتھ آپ ایسا برتاؤ کر سکتے ہیں؟ نہیں! یہ میرے یا آپ کے انتخاب کی بات نہیں ہے، یہ میری یا آپ کی مرضی پہ منحصر نہیں ہے۔

انصاف دوسری آسمانی آفتوں کی طرح ہم پر عائد کیا جاتا ہے اور ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔ یہ تمام انسانی تاریخ، تمام انسانی دکھ پر حاوی ہے۔ پھر کیوں ؛ میں پوچھتا ہوں کیوں، جب کہ آسمانی انصاف کا کوئی پیٹرن نہیں ہے تو کیوں ہم انسانوں کے انصاف کی تائید کریں؟ جنگوں اور قحطوں اور وباؤں میں انصاف کہاں تھا؟ ہم کیسے انسانوں کی زندگیوں پر حکومت کرنے کے اصول وضع کر سکتے ہیں؟ جب کہ انسانوں کے مقدر کے لیے کوئی اصول نہیں ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہیں کہ چند بے روح، مردہ دل، یاسیت پرست اور بیمار پڑھے لکھے لوگوں کا ایک گروہ دوسرے انسانوں کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے بیٹھ جائے جبکہ وہ خود اپنے مستقبل اور اپنے انجام کے متعلق بے خبر اور بے بس ہیں اور ان قوتوں کے متعلق کچھ نہیں جانتے، جن کے ہاتھ میں ان کا خاتمہ ہے۔ تم نے ان لوگوں کی بے بسی دیکھی ہے جب وہ جنگ یا قحط کے دوران اپنے قانون چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک شخص کو بھی مرنے سے، ختم ہونے سے نہیں بچا سکتے مگر اپنی بدنما شان و شوکت کے ساتھ، چہروں پہ مصنوعی سکون طاری کیے ، کاغذوں اور دفتر کی میزوں کے ساتھ اپنا پیشہ جاری رکھتے ہیں۔ جب وہ معصوم انسانوں کو موت سے نہیں بچا سکتے تو اپنے قلم، کاغذ اور دفتر کے فرنیچر کو بچانے کی جاں توڑ کوشش کرنے لگتے ہیں۔ تم سمجھتے ہو کہ وہ نالائق ہیں؟ نہیں! اس سارے وقت میں انہیں مستقل اپنے کام کی بے اثر اور نفرت انگیز نوعیت کا علم رہتا ہے۔ وہ نالائق نہیں، نا اہل ہیں۔ صاف صاف نا اہل!

وہ چشمہ اتار کر صاف کرنے لگا۔ دوبارہ چشمہ چڑھا کر وہ بولا تو اس کی آواز گہری اور اداس تھی۔

یا شاید نا اہل بھی نہیں ہیں، صرف احمق ہیں۔ احمق! کیونکہ پھر میں نے انہی آدمیوں کو مضحکہ خیز طور پر مرتے ہوئے دیکھا۔ وباؤں میں اور اپنے انصاف کے قوانین یہی پہ چھوڑ کر بے بس، بے کس لوگوں کی طرح مر گئے، اس قوت کے زیراثر جو ان کے انصاف کے قوانین کی کوئی پروا نہیں کرتی۔ اس کا اپنا انصاف ہے۔ یہ وہی بے معنی موت تھی جو ہر کسی کو آتی ہے۔ وہی بے کسی کی موت جو کتے کو آتی ہے۔ قوانین دو بار مرتے ہیں۔ بہتر موت ان کے لیے ہے جب وہ غلط ثابت ہوتے ہیں اور بدل دیے جاتے ہیں، ہر زمانے میں۔

اور بدتر موت ان کے لیے وہ ہوتی ہے جب کہ وہ ابھی لاگو ہوتے ہیں اور ان کی نفی کی جاتی ہے۔ زلزلوں، وباؤں، جنگوں کی مدد سے۔ جب آفتیں نازل ہو کر مکمل طور پر ان کی نفی کرتی اور تمام انسانی زندگی کو ابدی طور پر بے معنی ثابت کرتی ہے۔ وبا کے بعد اگر ایک شہر میں ایک یا دو سو آدمی بچ جاتے ہیں تو کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ زندگی کی نشانی ہے؟ یہ موت ہے۔ ایک انسان کی موت سب کی موت ہے کیونکہ زندگی یکساں ہے اور موت بہرحال موجود ہے۔ تمہاری یا میری یا میرے بچوں کی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر میں تمہیں قتل کرتا ہوں تو پھانسی پر چڑھوں گا، نہیں کرتا تو قحط میں مروں گا یا جنگ میں یا کسی گلی یا ہسپتال میں ہی مر جاؤں گا۔ کیا فرق پڑتا ہے؟

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
11