سونیا بی بی (رحیم یار خان)

ایک دفعہ ایک لومڑی کسی شکاری کے جال میں پھنس گئی اور باہر نکلنے کے لیے زور لگانے لگی لیکن اُس کی دُم پھندے میں ایسی پھنسی تھی کہ کسی طرح بھی نہ نکل سکی۔ لومڑی نے سوچا اگر زیادہ زور لگایا تو دُم کٹ جائے گی مگر پھر دِل میں کہنے لگی دُم رہے یا جائے کسی طرح جان تو بچ جائے ۔ یہ سوچ کر اُس  نے پورا زور لگایا اور سچ مُچ اُس کی دُم کٹ گئی۔ یہ لنڈوری لومڑی ہانپتی کانپتی ایک طرف کو بھاگ نکلی مگر اُسے دُم کٹ جانے کا سخت افسوس تھا۔ اب یہ جس طرف بھی جاتی دوسری لومڑیاں اُسے دیکھ کر قہقہے لگانے لگتیں۔ اِس ہنسی مذاق اور دِل لگی سے بے چاری لومڑی کا ناک میں دم آ گیا۔ اُس نے سوچا کہ اگر سب لومڑیوں کی دُم کٹ جائے تو پھر کسی کو مجھ پر ہنسنے کی جرات نہیں ہو گی۔ ترکیب سچ مُچ بہترین تھی ۔ لومڑی کو اِس سے بہت خوشی ہوئی۔ وہ اگلے دِن سب لومڑیوں کو اکٹھا کر کے بولی میں نے تمہیں ایک خاص بات کرنے کے لیے بُلایا ہے۔ تم دیکھتی ہو کہ میری دُم کٹی ہوئی ہے۔ تم سب کو یہ حقیقت سُن کے حیرانی ہو گی کہ میں نے اِسے خود کاٹا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مجھے اس سے بڑی تکلیف تھی۔ اب میں ہر وقت خوش رہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ تمہیں بھی اپنی خوشی میں شریک کروں۔ بھلا بتاؤ تو دُم کا فائدہ ہی کیا ہے؟میری رائے میں تم سب کو بھی دُم کٹا دینی چاہیے۔ ایک بوڑھی لومڑی مسکرا کر بولی اگر تمہاری دُم ہوتی تو کبھی ایسا نہ کہتی۔ دُنیا میں ہر شخص اپنی مصیبت میں دوسروں کو بھی پھنسانا چاہتا ہے۔ یہ سُن کر سب لومڑیوں نے زور کا قہقہہ لگایا اور لنڈوری لومڑی اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔

شیئر کریں
2804
31