الٹے بانس بریلی کو

محمد عدنان مصطفیٰ (مظفرگڑھ)

کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ  جلال الدین محمد اکبر کے عہد میں ہندوستان میں سلیم نام کا ایک نوجوان سوداگر رہا کرتا تھا۔ اس کی ایک عادت تھی کہ جب بھی اپنا مال لے کر کہیں جاتا اور راستے میں کسی اور سوداگر کا سامان پسند آجاتا تو وہ اس کے ساتھ اپنا مال تبدیل کر لیتا۔ایک دفعہ سوداگر سلیم تربوز اور کچھ دوسرے پھل ہندوستان کے مشہور شہر بریلی کی طرف لے جا رہا تھا۔ ابھی اس نے آدھا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ اسے ایک اور سوداگر بریلی سے واپس آتا ہوا ملا۔ وہ سوداگر بریلی سے بانس لے کے جا رہا تھا۔ بریلی ہندوستان کا قدیم شہر ہے جو اپنے بانسوں کے جنگل کے لیے مشہور ہے۔ بریلی سے بانس سارے ہندوستان کو بھیجے جاتے ہیں۔سلیم نے اپنی عادت کے مطابق اس بانس لانے والے تاجر سے کہا کہ وہ اپنا مال اس کے ساتھ تبدیل کر لے۔ پہلے تو وہ راضی نہ ہوا لیکن جب اس نے دیکھا کہ سلیم کا مال تازہ پھلوں پر مشتمل ہے جو ہاتھوں ہاتھ بک جائے گا تو وہ راضی ہو گیا۔ دوسری طرف سلیم دل ہی دل میں حساب لگا رہا تھا کہ پھلوں کی بجائے بانس لمبے عرصے تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں اس لیے زیادہ منافع دیں گے۔ اس بے چارے کو یہ علم نہیں تھا کہ بانس بریلی لے جا کر فروخت کرنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔جب سلیم شہر کے قریب پہنچا تو سامنے سے اکبر بادشاہ کے وزیر بیربل کی سواری آتی دکھائی دی۔ بیربل ایک ذہین شخص تھا۔ اس نے جب سلیم کو بانسوں سے لدا ہوا چھکڑا بریلی کی طرف لے جاتے دیکھا تو وہ بہت حیران ہوا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس شخص سے پوچھو یہ بانس کس مقصد کے لیے بریلی لے جا رہا ہے۔ جب بیربل کو اصل بات کا پتا چلا تو وہ بہت ہنسا اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا،  الٹے بانس بریلی کو۔تب  سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی اور ایسے موقعوں پر استعمال کی جانے لگی جب کسی کی صریح حماقت کی طرف اشارہ مقصود ہو۔

شیئر کریں
98
4