جب ہم بہاول پور گئے

ثمینہ  رزاق (لودھراں)

ہمارا سکول میں آخری سال تھا۔ ہم نے ایک یادگار سفر پر جانے کا منصوبہ بنایا اور ہیڈ مسٹریس سے اس موضوع پر بات کی۔انہیں ہمارا منصوبہ پسند آیا اور وہ ہمیں بہاول پور لے جانے کے لیے تیار ہو گئیں۔ اگلے دن ہم سب ساڑھے سات بجے سکول میں جمع ہوئے۔ ہم سب بہت خوش تھے۔ ہم ایک بس میں سوار ہوئے۔ راستے میں ہم نے بہت سے ملی نغمے اور گیت گائے۔ ہم نے سفر سے بہت لطف اٹھایا۔ آخر کار ہم لال سوہانرا پہنچ گئے۔ وہاں بہت سے جانور پنجروں میں بند تھے۔ ان میں بندر، خرگوش، مور، تیتر، طوطے اور  ہرن شامل تھے۔ وہاں ہم نے کشتی  پر سیر  کی اور گھڑ سوار ی بھی کی۔ اس کے بعد ہم ایس ایس ورلڈ پارک گئے۔ وہاں مختلف قسم کے جھولے تھے۔ ہم نے بھی جھولے لیے، کھانا اور آئس کریم بھی کھائی۔ کچھ وقت گزارنے کے بعد ہم وہاں سے بہاول پور کے  ایک تاریخی مقام نور محل چلے گئے۔ جو کہ نواب  آف بہاول  پور سر  صادق  محمد خان عباسی  پنجم نے تعمیر کروایا تھا۔ نور محل میں بہت سی تاریخی اشیاء رکھی ہوئی تھیں۔ وہاں رات سات بجے ایک نائٹ شو کے نام سے ایک تفریحی پروگرام کا اہتمام کیا  گیا۔ جس میں قیام پاکستان کے لیے  ریاست بہاول پور اور عباسی خاندان کی بے پناہ خدمات کو بیان کیا گیا۔ رات بہت ہو چکی تو ہم بھی اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ اس سفر کو میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ کیونکہ یہ میرے اساتذہ اور ساتھیوں کے ہمراہ  یادگار سفر تھا۔

شیئر کریں
1369
11