فاطمہ  اشفاق (ملتان)

ميرا نام فاطمہ اشفاق ہے۔ميں نہم جماعت کى طالبہ ہوں۔میں نے قرآن پاک حفظ کيا ہے۔  يہ ميرے والد کى خواہش تھى کہ میں دنياوى تعليم کے ساتھ ساتھ دينى علم بھى حاصل کروں۔ميرے ابو کا جب آخرى وقت تھا تو انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ بيٹی ! دين کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لينا اور سنت نبوى ﷺ  پر عمل کو زندگى کا مقصد بنانا ، کيونکہ ان کى سيرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ مجھے اپنے پیارے نبی  رسول اکرم ﷺ سے بہت زيادہ محبت ہے۔  مجھے بچپن سے ہی نعت سن کر اور پڑھ  کر دلى مسرت ملتى ہے  اور آج جو میں  کہانى سنانے والى ہوں وہ نبى ﷺ  کى محبت سے ہى جڑى ہوئى ہے۔

ميں گورنمنٹ مسلم گرلز ہائى سکول ملتان میں جب پہلے دن گئى تو بہت ڈر رہى تھى کيونکہ پہلے دن خوف محسوس ہوتا ہے۔ جب جماعت میں گئى تو تسلى ہو گئى کہ استانى صاحبہ بہت اچھى ہیں ۔ میرا پہلا دن بہت اچھا گزرا۔ اب مجھے تقريبا ً ايک مہينہ ہونے والا تھا ۔ ايک دن ميرى ٹیچرنے کلاس میں آکر کہا کسى بچى کو نعت آتى ہے؟  میں نے کہا مجھے آتى ہے۔ٹیچرنے کہا سناؤ ۔پہلى بار سب کے سامنے نعت سنانے کا موقع ملا تو ڈر بھى لگ رہا تھا ۔ خير ميں نے نعت پڑھنے کی  سعادت  حاصل کی۔ ميرى ٹيچر اور ہم جماعت طالبات کو ميرى آواز بہت پسند آئى ۔ ميرى ٹيچر نے کہا کہ آپ بہت آگے جاؤ گى ، میں نے دل ہى دل میں آمین  کہا ۔ اچانک کورونا وباء کى وجہ سے سکول بند کر دیے گئے ۔ چھٹیوں کے بعد سکول واپس آئے۔  دو تين دن بعد ايک ٹیچرکلاس میں آئيں اور پرنسپل صاحبہ کا پيغام ديا کہ ہر کلاس سے  جس جس بچى   کو نعت آتى ہے وہ ميٹنگ ہال میں آ جائے ۔ ميرى کلاس انچارج نے مجھے بھيج ديا ۔ میں خوشى خوشى میٹنگ ہال میں آئى جہاں دوسری کلاسز کى بھى کافى تعداد میں طالبات موجود تھيں۔  سب نے بارى بارى مائيک میں نعت سنائى۔  ميرى بارى آئى تو میں نے پہلى بار مائيک میں نعت پڑھی۔  ميرى آواز اور انداز سب کو بہت پسند آيا اور مجھے مقابلہ نعت کے لیے منتخب کر ليا گیا۔

ہفتہ شان رسالت کے مقابلہ جات شروع ہو گئے۔  ان مقابلہ جات کا شيڈول کچھ اس طرح تھا کہ پہلے تحصيل کى سطح پر، جس میں پہلى تین پوزيشن والے اميداوار ضلع کى سطح پر شامل ہوئے اور ضلع میں پہلى تين پوزيشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات ڈويژن کى سطح کے مقابلہ جات میں شرکت کريں اور ہر ڈویژن سے پہلے نمبر پر آنے والا صوبائى سطح پر مقابلہ کے لیے اہل ہو گا ۔ مجھے جو نعت دى گئى وہ  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری کا نعتیہ کلام  ‘نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذی شان گیا’۔  مجھے يہ  نعت نہیں آتى تھى جس پر ميرے سکول کى بہت ہى مشفق اور قابل ٹیچرفہيم صاحبہ نے  مجھے حوصلہ ديتے ہوئے کہا کہ ميں آپ کى  مدد کروں گى،  انشاء اللہ آپ  جلد ہی ياد کر لو گى ۔ انہوں نے مجھے ايک دن کا وقت ديا  اور بار بار نعت مجھے سناتى رہيں، ميرا  تلفظ اور لہجے کى اصلاح ميں فہيم صاحبہ کى محنت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ میں بھى گھر میں آئینے کے سامنے بار بار نعت  پڑھنے کی مشق پڑھتی رہی۔ اس طرح مجھے نعت اچھى طرح ياد ہو گئى۔

 آخر وہ گھڑى آ گئى جب مجھے تحصيل سطح پر نعتیہ مقابلہ  جات میں نعت سنانے کا موقع ملا۔ میں  نے تحصيل اور ضلع کى سطح پر اول پوزيشن حاصل کر لى گويا مجھے منزل قريب آنے لگى،  ميرے حوصلے مضبوط ہونے لگے،  اب میں ڈویژنل  سطح پر  مقابلے کے لیے منتخب ہو گئی۔  مقابلے کے دن جب میں اپنى استانى  صاحبہ کے ساتھ اس ہال میں پہنچى جہاں مقابلہ کا انعقاد کيا گيا تھا  تو ميں دل ہى دل میں دعائيں مانگ رہى تھى اور کافى نروس تھی۔  ميرى ٹيچر نے مجھے تسلى دى ۔ جب مائيک پر ميرا نام پکارا گيا  تو میں سٹیج پر گئی اور نعت پڑھی۔  ججز نے جب فيصلہ سنايا تو مجھے اپنى سماعتوں پر يقين نہیں آرہا تھا کہ میری ڈویژنل سطح پر  پہلى پوزيشن تھی۔  خوشى سے ميرى آنکھوں میں آنسو آگئے اور اللہ تعالى کا شکر کيا جس نے مجھے اس قابل کيا کہ میں اس کے پيارے حبيب ﷺ کى شان میں نعت گوئى کے لئے منتخب ہوئى ۔ اب صوبائی سطح پر مقابلے میں شرکت کرنے کے لیے مجھے اسى دن شام کو لاہور جانا تھا ۔ ميرے تمام اساتذہ کرام ، ميرى قابل احترام پرنسپل صاحبہ اور ميرے اہل خانہ میر  ی کامیابی پر بہت خوش تھے اور صوبائى سطح پر جيت کے لیے ميرے لیے دعا گو تھے۔

 پنجاب سطح پر مقابلہ کے لیے رات نو بجے ہم روانہ ہوئے۔ سکول سے دو ٹیچرزبھى ساتھ جارہى تھيں۔  ارے ہاں ايک اور بات بتانا بھول گئى۔  ہمارے سکول کى ايک طالبہ تقريرى مقابلہ میں بھى صوبائى سطح پر مقابلہ کے لیے منتخب ہوئى تھى وہ بھى ساتھ جارہى تھى ۔ پرنسپل صاحبہ نے سکول کى طرف سے  ہم سب کے لیے  ايک گاڑى بک کروائى تھى، جس پر ہم چاروں لاہور کے لیےروانہ ہوئے۔ ميرا يہ لاہور کا پہلا سفر تھا اس لیے بہت پرجوش تھى ۔ راستے میں ہمارى ٹیچرزنے ہمارا بہت خيال رکھا ۔ اچھى اچھى نصیحتیں کرتی رہیں۔ ايک جگہ رک کر  ہم نے  چائے بھی  پی اور  اپنى منزل کى طرف رواں دواں ہو گئے۔  جوں جوں منزل قريب آرہى تھى دل میں جوش اور ولولہ بڑھ رہا تھا ۔ يقين اور بے يقينى کى عجیب  کيفيت تھى جس کو بيان کرنا مشکل ہے۔ آخر کار ہم لاہور  پہنچ گئے ۔ اب ڈرائيور کو قائد اکیڈمی کا راستہ معلوم نہ تھا ۔ کئى لوگوں سے راستہ پوچھا ليکن گھوم پھرکر ہم پھر وہيں آ جاتے۔ بڑى مشکل سے گوگل ميپ سے رہنمائى لیتے ہوئے  ہم قائد اکيڈمى پہنچے۔ ہميں دو کمرے ملے ايک ہم دونوں طالبات کو اور ايک ہمارى دونوں ٹيچرز کو۔  کمرے بہت کشادہ اور صاف ستھرے تھے۔ بيڈ اور بستربھی صاف ستھرے تھے ۔ ہمارى ٹیچرز نے کہا کہ سو جاؤ تاکہ صبح بروقت جاگ کر جانے کے لیے تيار ہو سکو چنانچہ ہم سو گئيں۔

اگلی  صبح جلدى اٹھ کر ہم نے  نماز فجر اداکی۔ اس کے بعد ہم ناشتے کے لیے  کيفے ٹيريا چلے گئے ۔ بعدازاں ہم مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے  ايک ہال کى طرف چل دیے۔  ٹھيک دس بجے مقابلہ ہال کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ تقريب کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ وہاں صوبہ بھر کےمختلف  اضلاع سے اول پوزيشن لينے والی طالبات موجود تھيں۔  مقابلہ سے پہلے چند ہدايات بتائى گئيں۔ اب مقابلہ کے لیے طالبات کو بلايا جانے لگا ۔ميرا نام چوتھے نمبر پر پکارا گيا ۔ وقت جيسے جيسے گزرتاجا رہا تھا  میرے دل کى دھڑکن  تیز ہوتى جارہى تھى ۔ آخر کار وہ گھڑى  بھی آ گئى جس کا سب کو انتظار تھا مطلب نتائج کا وقت۔  سب سے پہلے ججز نے سب کا حوصلہ بڑھايا کہ ہار جيت زندگى کا حصہ ہے اور پھر پہلے  تھرڈ آنے والى طالبات کا نام پکارا ۔میں نے آنکھیں بند کر ليں۔  نہ جانے کيا ہو گا ہ۔ اتھوں میں پسينے آ رہے تھے ۔اب دوئم آنے والى طالبہ گورنمنٹ مسلم گرلز ہائى سکول ملتان سے فاطمہ اشفاق۔  يہ سن کر ميرى آنکھوں سے خوشى کے آنسو رواں ہو گئے اور میں کھڑى ہوئى اور ججز کے پاس گئى دل میں اپنے رب کے شکرانے ادا کر رہى تھى۔  اس کے بعد پہلى پوزيشن کا اعلان ہوا ۔ ججز سب پوزيشن ہولڈرز سے گلے مليں تو ايک جج صاحبہ نے کہا کہ میں فاطمہ اشفاق کو  دوبارہ گلے لگاؤں گى کيونکہ وہ بھى مسلم گرلز ہائى سکول کى سابقہ طالبہ تھیں اور ميٹرک اسى سکول سے کيا تھا۔  انسان جتنے بھى بڑے عہدے پر پہنچ جائے اپنے  مادر علمى کو کبھى نہیں بھول سکتا ۔

اب اگلے دن ہم کو ايوان اقبال جانا تھا جہاں وزيراعلىٰ پنجاب کے زیر صدارت منعقدہ ایک   تقريب  میں تقسیم انعامات کا عمل مکمل ہونا  تھا۔ ميرى  دوسری پوزيشن کى خوشى میں پرنسپل صاحبہ نے ہمارى ٹيچرز سے فون پر کہا کہ فاطمہ کو لاہور کى سير کرائيں ، اچھا سا کھانا کھلائيں  اور شاپنگ  وغیرہ کرائيں۔ شام کو ہم سب لاہور کی سير کے لیے گئے ۔ مجھے بہت مزہ آيا۔ ہم نے  آئس کريم کھائى اور کھانا کھايا ۔ خوب انجوائے  کرنے  کے  بعد واپس   قائد اکيڈمى آگئے۔

اگلے دن ناشتے کے بعد قائد اکيڈمى سے  بس میں سوار ہو کر ايوان  اقبال کى طرف رواں دواں ہوئے۔  ميرے ذہن میں بہت سے سوال تھے ۔  ايوان اقبال کيسا ہو گا ؟ وزير اعلىٰ کيسے ہوں گے؟  کيوں کہ  عام انسان ايسے مقامات  اورایسی شخصیات  کو صرف ٹى وى پر ہى ديکھتا ہے ۔ہميں پوزيشن کے لحاظ سے مختص کى گئى جگہ پر بٹھايا گيا ۔ وزير اعلىٰ صاحب  چند ديگر وزرا کے ہمراہ  ہال میں آئے  اور ہمیں انعامات  سے نوازا۔  مجھے  75 ہزار روپے کى رقم بطور انعام ملى اور توصیفی سند سے  بھی نوازا گیا۔  جب میں  اپنا انعام وصول  کر کے جب واپس اپنى نشست کى طرف آئى تو خوشى کى انتہا نہ رہى کہ ٹيچرز کے ساتھ ہمارى ماں جيسى میڈم  مہ طلعت صاحبہ بھى اس خوشى کے موقع پر ايوان اقبال میں موجود تھيں اور بہت خوش بھى تھيں ۔ اصل میں تو ان کى بہتر سرپرستى اور راہنمائى سے يہ سب ممکن ہوا ۔

 ايوان اقبال سے  ہم اپنى ايک ٹیچر کے بھائى جو کہ کارڈيالوجى ہسپتال میں دل کے ڈاکٹر ہیں ان کے گھر گئے ۔ ان کے گھر کھانا  بھی کھایا۔ وہ بہت اچھى شاعرى کرتے تھے ۔ انہوں نے ميرى نعت سنى اور ميرا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ايک ہزار روپے بطور انعام  اور شاباش دى۔  يوں ہم واپس ملتان کے لیے روانہ ہوئے ۔ میں اپنی اس نعت  خوانی کے سلسلے کو جارى رکھوں گى کيونکہ ہم  سب مسلمان ہیں۔ اپنے دين اور رسول ﷺسے محبت ايمان کا حصہ ہے  اور ہاں آپ کو يہ بتانا تو بھول گئى کہ اس سال2021  میں بھى  میں نے   ڈويژنل سطح تک پہلى پوزيشن حاصل کی اور صوبائى سطح پر بھى شرکت کى ليکن صوبہ ميں پوزيشن نہيں لے سکى، یعنی کہ ‘گرتے ہيں شہسوار ہى ميدان جنگ ميں ‘۔

نعت خوانی کر کے  محھے روحانى سکون ملتا ہے اور میں اس سلسلے کو جارى رکھوں گى۔ اس کے ساتھ ساتھ میں سکول کى پڑھائى بھى دل لگا کر کرتى ہوں تاکہ کچھ بن کر اپنى ماں کا سہارا بن سکوں جو ميرے والد کى وفات کے بعد محنت مزدورى کرکے ہميں پڑھا رہى ہيں۔  ان کو محنت کرتا ديکھ کر بہت احساس ہوتا ہے اور میں بھى ان کی مدد کے لیے بچوں کو گھر پر قرآن پاک اور ٹیوشن  پڑھاتی ہوں۔ رات کو اپنا سکول کا سبق ياد کرتى ہوں کيونکہ محنت میں عظمت ہے اور کوئى کام کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنى چاہئے ۔ اميد ہے آپ کو ميرى کہانى پسند آئے گى۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
397
5